خیالات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
خیالات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
میں معافی کا نہیں، سزا کا متحمل ہوں
میں عورتوں سے تمام مردوں کی طرف سے معافی مانگتا ہوں۔ جو کچھ بھی
میں نے یعنی 'پاکستانی نام نہاد مرد' نے عورت کیساتھ کیا، میں معافی کا نہیں سزا
کا متحمل ہوں، لیکن پھر بھی نہ جانے کیوں، میں معافی مانگ رہا ہوں۔ ایسا شاید یس
لیئے ہو کہ یہ معافی نہیں بلکہ اعتراف جرم ہے، اور اعتراف جرم کے بعد تو اکثر سزا
ہی ہوا کرتی ہے۔
طبقات کیسے ختم ہو سکتے ہیں؟
ہو سکتا ہے آپکو اس بات سےاختلاف ہو مگر میں اس پر یقین رکھتا ہوں کہ جو قوانین کوئی بھی خاص گروہ یا قوم بنائے، وہی اپنے بنائے ہوئے قوانین پر عمل کرتا رہے، دوسرے گروہوں یا قوموں کو اپنے ذاتی قوانین کی آگ میں جھونکنا کہاں کا انصاف ہے؟ باقاعدہ "آگ میں جھونکنا"اس لئے لکھا گیا کہ واضح ہو کہ میں قوانین کے زبردستی تھونپنے کے حق میں نہیں ہوں۔ ہاں اگر کوئی مرضی سے کسی بھی طبقے کے قوانین پر عمل کرنا چاہتا ہے تو اس میں کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔
حکم: "اؤے یہ کر ورنہ۔۔۔ اؤے وہ کر ورنہ۔۔۔"
جب تیرا حکم ملا ترک محبت کر دی
دل مگر اس پہ وہ تڑپا کہ قیامت کر دی
حکم سے بات تو منوائی جا سکتی ہے مگر اس بات کی اہمیت واضح نہیں کی
جا سکتی۔ میں نے جب بھی کوئی حکم مانا ہے، ہمیشہ ایک دفعہ کے لیئے مانا
ہے،وہ بھی برائے ادب، دوبارہ وہ کام کرنے کی زحمت نہیں کی، اور اسکی واضح وجہ اس
بات کا میرے لیئے ‘حکم’ ہونا ہے۔ حکم دیتے دوران آپ محکوم کو حقیر سمجھ رہے ہوتے
ہیں، اگرباطنی طور پر ایسا نہیں تو کم از کم ظاہری طور پر تو بہر حال ایسا ہی ہے۔
‘بات’صرف اسوقت ہی ہو سکتی ہے جب بات کرنیوالے برابری کی سطح پر براجمان ہوں،
بصورت دیگر ‘جسکی لاٹھی اسکی بھینس’والی مثال صادق آتی ہے۔ اب بھینس کو بالکل
خبر نہیں ہوا کرتی کہ اسے ‘ایسا ویسا’ کیوں کہا جا رہا ہے۔
نصیب برائے کامیابی: جھوٹ یا حقیقت؟
ابھی ابھی میں افتخار اجمل بھوپالی صاحب کا بلاگ 'میں کیا ہوں' پڑھ رہا تھا،جسمیں انہوں نے ایک خوبصورت تحریر لکھی ہوئی تھی۔ انہوں نے دراصل ایک کہانی کا ذکر کیا تھا جو دولت اور نصیب سے متعلق تھی۔ میں نے اس کہانی سے یہ سیکھا کہ نصیب اور دولت کے امتزاج سے ہی کامیابی سے ہمکنار ہوا جا سکتا ہے۔ لیکن پھر میں سوچتا ہوں کہ جو کامیاب ترین لوگ نصیب کو ذرانہیں کھنگتے ،انکا کیا؟ کیا وہ حقیقت ہیں؟ یا پھر ہمیں گمراہ کر رہے ہیں؟ میں نے تو ان سے یہ بھی کہتے ہوئے سنا کہ نصیب دراصل کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔ آپ کو محنت سے ہی سب کچھ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ کامیاب لوگ دوسرے لوگوں سے ایسا سب اس لیے کہتے ہوں تاکہ وہ کامیابی کے لئے ذیادہ سے ذیادہ محنت بروئے کار لائیں۔ لیکن میرا مقصد تو فی الوقت یہ سمجھنا ہے کہ وہ حقیقت بولتے ہیں یعنی نصیب کا کوئی ہیر پھیر ہوتا ہی نہیں یا وہ بھلے ہمارے فائدے کے لیے ہی سہی مگر جھوٹ بولتے ہیں؟ اس متعلق دوسری سوچ یہ ہے کہ نصیب دراصل خدا کی مرضی ہوا کرتی ہے، ایسی مرضی جس پر انسان کا زور نہیں چلتا۔ یہ معمہ حل ہو نا ہو مگریہ بات طے ہے کہ ہم انسان اس متعلق کافی مختلف سوچتے ہیں۔
میرا ذاتی خیال ہے کہ
شاید نصیب کوئی ایسی بلا کا نام ہے جسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ نصیب سے متعلق ایک مشہورامریکی لکھاری میکس گندربھی ایسا ہی کچھ سوچتا تھا۔ مثال کے طور پر
میں ملتان میں پیدا ہوا تو یہ میرا نصیب ٹھہرا، کیونکہ میں نے تو ملتان میں پیدا
ہونے کا فیصلہ نہیں کیا تھا۔ اب فرض کریں کہ میرا مقصد لاس انجلس جاکر رہنا ہے۔ تو
میں محنت کر کے، مکمل طور پر تیار ہو کےوہاں جا سکتا ہوں۔ وگرنہ نہیں۔ تو یہ میری
محنت کا پھل ہوا، نہ کہ نصیب کی کوئی کہانی۔ لیکن یہ غلط بھی تو ہو سکتا ہے۔ ہو
سکتا ہے کہ حقیقت کچھ اور ہو۔ یا یوں کہیں کہ ہر شخص کی اپنی کہانی ہے، اپنی حقیقت
ہے۔ اوریہ ہو سکتا ہے کہ تمام حقیقتیں واقعی حقیقتیں ہوںمگر خاص اس شخص کے لئے جو انکو حقیقتیں مانتا ہے۔
آپ نصیب سےمتعلق کیا خیالات رکھتے ہیں؟نیچےتبصروں میں ضرور بتایئے گا۔شکریہ
یار زندہ صحبت باقی۔ محبت سے محبت بانٹنے والوں کی خیر ہو۔
آپ نصیب سےمتعلق کیا خیالات رکھتے ہیں؟نیچےتبصروں میں ضرور بتایئے گا۔شکریہ
یار زندہ صحبت باقی۔ محبت سے محبت بانٹنے والوں کی خیر ہو۔
میرے ایک عزیز دوست وقاص ملک نے اس تحریر پرفیس بک کے ذریعے درج ذیل تبصرہ کیا ہے،جو کہ قابل سمجھ ہے:
"بهائی میں جہاں تک سمجهتا ہوں کہ ہمارے بزرگوں کی جو حکمت ہوتی ہے وہی ہماری قسمت ہوتی ہے! اگر وہ حکمت بہترین رہی ہے تو آنے والوں کی قسمت بهی شاندار ہوگی.باقی پیسہ سب کچھ نہیں ہوتا پر بہت کچھ ضرور ہوتا ہے"
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)




